تماشہ

رحم آتا نہیں درندوں کو
خوف لاحق رہا پرندوں کو

کوئی چہرہ نہیں سراغوں میں
بلبلیں لٹ رہی ہیں باغوں میں

شہر کی رونقوں سے گاؤں تک
آگ پھیلی ہے سر سے پاؤں تک

وحشتوں سے بھری نگاہوں سے
کون گزرے گا بچ کے راہوں سے

سر سے کھینچی گئی رداؤں میں
اُڑ گئی داستاں ہواؤں میں

شور کرتے ہیں دن مناتے ہیں
پھر نیا واقعہ بناتے ہیں

چند گھڑیوں کا سوز ہوتا ہے
یہ تماشہ تو روز ہوتا ہے

منزّہ سیّد

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا