رستہ بدل گیا تھا وہ

رستہ بدل گیا تھا وہ مجھکو آتا دیکھکر
میں دیکھتا رہا بس اس کو جاتا دیکھکر

وہ محو گفتگو تھے بھری محفل میں مگر
چپ سی لگ گئی کیوں مجھکو آتا دیکھکر

جب انتظار کسی کا نہ تھا تو دروازے پر
کیوں جمی تھی نظریں سب کو آتا دیکھکر

دریا اپنی سمت ہی چلتا رہتا ہے ہر وقت مگر
رخ بدل بھی لیتا ہے وہ طوفان کو آتا دیکھکر

چلو گھر دن کا اجالا اب ماند پڑنے کو ہے یوسف
سیاہی چھانے کو ہے تیارسورج کو جاتا دیکھکر

محمد یوسف برکاتی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا