رقصِ طلب

چراغوں کی لو میں جلتی ہے باتیں،
نظر کی زبان میں پلتی ہیں راتیں۔

یہ قربت کی خوشبو، یہ جذبوں کا جادو،
تمناؤں کی شمع، سلگتی ہیں راتیں۔

جو دل میں ہے رہتا، وہ لفظوں میں آتا،
محبت کی گلیوں میں چلتی ہیں راتیں۔

میرے لمس سے جو چمکے تیری روح،
وہی خواب کی صورت ڈھلتی ہیں راتیں۔

یہ رقصِ طلب، یہ حرارت کی شدت،
تمہاری میری سانسیں، مچلتی ہیں راتیں۔

عشق کا کھیل ہے، جیتا وہی ہے،
جو ہارے تو خواہش میں ڈھلتی ہیں راتیں۔

تو آیا قریب اور میں کھو گئی شاکرہ،
حسین لمحوں میں بہکتی ہیں راتیں۔

شاکرہ نندنی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان