ہاتھوں میں کشکول اُٹھا کر رقص کیا

ہاتھوں میں کشکول اُٹھا کر رقص کیا
تنہائی کو یار بنا کر رقص کیا

صدیق و فاروق و غنی کا بتلایا
ہم نے شانِ علی سُنا کر رقص کیا

مجنوں نے تاریخ رقم کی اور ہم نے
اُس کی صورت دشت میں جا کر رقص کیا

گھیرا مجھ کو آ کے رات اندھیری نے
ایک مکمل دیپ جلا کر رقص کیا

چارہ گر جو آیا بانٹنے رنج و غم
اُس کو اپنا درد سُنا کر رقص کیا

یار نہ مانا جب سب دِل کی باتوں سے
ہم نے تو پھر اشک بہا کر رقص کیا

چارہ گر بھی دیکھ نہ پایا غم میرے
چارہ گر کو ساتھ نچا کر رقص کیا

ٹوٹ رہا تھا بزمِ رقص کا ویرانہ
ہم نے مَن کا درد بڑھا کر رقص کیا

واعظ نے اشعار لکھے جس کی خاطر
اِک دن اُس کو ساتھ رُلا کر رقص کیا

عمر اشتر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے