رقصِ طلب

رقصِ طلب
مری افراد یتی
تجھے اک نظر دیکھ کر میرے اندر
یکایک
مری سات پشتوں کی سرگوشیاں
جی اٹھی ہیں
مری روح
جو اک فسردہ خلا تھی
عبادت کدہ ہے
مرے جسم کا دل گرفتہ پجاری
پرستش کی ضد کر رہا ہے

مری افراد یتی
تری مسکراہٹ
تری مائل و کافرانہ نظر سے
یہ لگتا ہے جیسے
تجھے سب خبر ہے
کہ شاید کہیں اس سے پہلے بھی ہم
مور اور مورنی کا یہ رقصِ طلب
کر چکے ہیں
۔۔۔۔۔۔
Aphroditeمحبت کی یونانی دیوی

سعید خان 

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں