رکھتا تھا ہاتھ میں سررشتہ بہت سینے کا

رکھتا تھا ہاتھ میں سررشتہ بہت سینے کا
رہ گیا دیکھ رفو چاک مرے سینے کا

اے طپش لوہو پیے میرا جو تو جھوٹ کہے
کس سے یہ قاعدہ سیکھا ہے لہو پینے کا

اس میں حیران ہوں کس کس کا گلہ تجھ سے کروں
بدگمانی کا تغافل کا ترے کینے کا

میر کی نبض پہ رکھ ہاتھ لگا کہنے طبیب
آج کی رات یہ بیمار نہیں جینے کا

میر تقی میر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی