راہ در راہ مِلا کرتے ہیں سارے پتھّر

راہ در راہ مِلا کرتے ہیں سارے پتھّر
بعد مرنے کے بھی ہوتے ہیں سہارے پتھّر

ایک سے بسترِ راحت ہیں یہ دونوں کے لیے
آپ کے مخمل و کمخواب ، ہمارے پتھّر

چھوڑ سچ جھوٹ کہ لیلیٰ کے قبیلے سے ہے تُو
تجھ پہ لازم ہے کہ مجھ قیس کو مارے پتھّر

بے سبب رہ گزرِ عشق پہ ابہام ہیں سب
خوب پتھریلے ہیں اِس راہ کے سارے پتھّر

تجھ سے تَو خیر محبّت کا تعلّق ہے سمیرؔ
پھول کی طرح ہی لگتے ہیں تمھارے پتھّر

سمیرؔ شمس

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا