راہ چلتے کو یہ اعزاز نہیں دے سکتے

راہ چلتے کو یہ اعزاز نہیں دے سکتے
اپنی آنکھوں میں چھپے راز نہیں دے سکتے

وہ خدا ہے تو گزارش بھی الگ بنتی ہے
سوچتے رہتے ہیں آواز نہیں دے سکتے

اس کہانی میں کئی بار جدائی ہوگی
ڈرتے رہتے ہیں سو آغاز نہیں دے سکتے

اس کا مطلب کہ ہمیں بولنا آتا ہی نہیں
اس کی چپ کو اگر آواز نہیں دے سکتے

جو بزرگوں کی زیارت کو نہیں جاتے ہیں
لفظ کو قوتِ پرواز نہیں دے سکتے

تیری تسکین کی خاطر ہے یہ دنیا حاضر
بس تجھے چادرِ شہباز نہیں دے سکتے

تجدید قیصر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے