راز الفت چھپا کے دیکھ لیا

راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا

اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا

وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا

آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا

فیضؔ تکمیل غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا

 

فیض احمد فیض

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی