رات آ بیٹھی ہے پہلو میں ستارو تخلیہ

رات آ بیٹھی ہے پہلو میں ستارو تخلیہ

اب ہمیں درکار ہے خلوت سو یارو تخلیہ

آنکھ وا ہے اور حسن یار ہے پیش نظر

شش جہت کے باقی ماندہ سب نظارو تخلیہ

دیکھنے والا تھا منظر جب کہا درویش نے

کج کلاہو بادشاہو تاجدارو تخلیہ

غم سے اب ہوگی براہ راست میری گفتگو

دوستو تیمار دارو غم گسارو تخلیہ

چار جانب ہے ہجوم نا شنایان سخن

آج پورے زور سے فارسؔ پکارو تخلیہ

رحمان فارس

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا