راستے میں نہ آ شجر کی طرح

راستے میں نہ آ شجر کی طرح
مل کہیں دوپہر میں گھر کی طرح

ہم اُسے دیکھنے کہاں جائیں
ساتھ رہتا ہو جو نظر کی طرح

لوگ دوڑے گھروں کی سمت آخر
شام آئی بُری خبر کی طرح

دور اُفق پر ہے آندھیوں کا ہجوم
اور ہم بے خبر شجر کی طرح

وہ ہوا ہے کہ اب تو بازو بھی
ٹُوٹتے جا رہے ہیں پر کی طرح

آنکھ تھی بند سیپ کی مانند
اشک پلکوں پہ تھے گہر کی طرح

لیاقت علی عاصم

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان