قربتِ لمس کو گالی نہ بنا

قربتِ لمس کو گالی نہ بنا جانے دے
پیار میں جسم کو یکسر نہ مٹا جانے دے

تو جو ہر روز نئے حُسن پہ مر جاتا ہے
تو بتائے گا مجھے عشق ہے کیا جانے دے

چائے پیتے ہیں کہیں بیٹھ کہ دونو بھائی
جا چکی ہے نا تو بس چھوڈ چل آ جانے دے

تو کی جنگل میں لگی آگ سی بےساختہ ہے
خود پہ تہزیب کی چادر نہ چڈھا جابے دے

جابتا ہوں کہ تجھے کون سی تھی مجبوری
یوں میرے سامنے ٹسوئے نہ بہا جانے دے

علی زریون

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل