قومی یکجہتی وقت کی ضرورت

پاکستان آج ایک انتہائی نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ سرحدوں پر مسلسل جھڑپیں، فضائی کارروائیاں اور دہشت گردانہ دھماکے معمول بن چکے ہیں۔وانا کے کیڈٹ کالج پر حملہ، اسلام آباد میں خودکش دھماکے، اور عدالتوں کے قریب ہونے والی وارداتیں ہمیں یہ صاف پیغام دے رہی ہیں کہ دشمن نے میدانِ جنگ کے انداز بدل دیے ہیں۔ یہ محض دہشت گردانہ کارروائیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے بچوں، ہمارے تعلیمی اداروں اور ہمارے مستقبل پر براہِ راست حملے ہیں۔ اب نرم لہجے یا مصلحت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ سختی، عزم اور واضح ردِ عمل وقت کی ضرورت ہے۔

سرحدی جھڑپیں اور فضائی کارروائیاں محض عسکری معاملات نہیں ہیں۔ یہ طویل المدت جغرافیائی اور اسٹریٹجک مفادات کا ٹکراؤ ہیں، جن میں بیرونی عناصر اپنے مفادات کے لیے ایندھن ڈال رہے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ سرحدی تنازعات صرف فوجی افسران کا کھیل ہیں، وہ بھول رہے ہیں کہ جب تجارتی راستے بند ہوں، انسانی نقل و حرکت پر پابندیاں لگیں، اور معاشی دباؤ بڑھایا جائے، تو اس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر بچوں، بیماروں اور غریب طبقے پر پڑتا ہے۔

پاکستان کی خودمختاری اور داخلی سلامتی پر حملے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ کوئی بھی طاقت، چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، جو عدالتی نظام، اسکول، کالج یا کسی سرکاری ادارے کو نشانہ بنائے، اسے معاف نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی نظر انداز کیا جائے گا۔ وانا کے کڈٹ کالج پر حملہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ عسکری اور نیم عسکری اہداف بھی محفوظ نہیں ہیں۔ مگر اس واقعے کی ایک روشنی یہ بھی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت اور بہادرانہ کارروائی کر کے بڑے نقصان کو روکا۔ یہ بہادری سراہنے کے قابل ہے، مگر یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ وقتی کارروائی مستقل حل نہیں ہے۔ اگر مستقل اور جامع دفاعی حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو دشمن دوبارہ اسی کمزوری کو آزما کر آئے گا۔

تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا ہمارے مستقبل پر حملہ ہے۔ اسکول، کالج اور ہاسٹل صرف عمارتیں نہیں، یہ قوم کی تربیت، امنگوں اور خوابوں کے مراکز ہیں۔ اگر ہم اپنے بچوں اور نوجوان نسل کے تعلیمی اداروں کی حفاظت میں ناکام رہ گئے تو ہم اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ حفاظتی اقدامات صرف کاغذی منصوبے نہیں ہونے چاہیے، بلکہ عملی اور حقیقی تدابیر ہونی چاہئیں۔ اساتذہ، والدین اور طلبہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ خطرہ کہاں سے ہے اور اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا۔ کمیونٹی شمولیت، مقامی نگرانی اور بروقت اطلاع کے نظام کو فعال بنانا لازمی ہے۔

اسلام آباد میں خودکش دھماکہ یہ واضح کرتا ہے کہ دہشت گرد اب صرف سرحدوں یا دور دراز علاقوں تک محدود نہیں ہیں۔ وہ دل و دماغ میں گھس آئے ہیں، عدالتوں اور عدالتی عمل کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ہمارے عدالتی نظام، انصاف اور شہریوں کے تحفظ پر براہِ راست حملہ ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ عدالتوں کی حفاظت یقینی بنائے اور عوام کو اعتماد دے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر ممکن قدم اٹھا رہے ہیں۔ اس میں نرم دلی یا سیاسی مصلحت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

خواجہ محمد آصف کے سخت بیانات اس وقت صرف سیاسی الفاظ نہیں ہیں، بلکہ ملکی سلامتی اور دفاع کی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب وزیر دفاع کھل کر کہتے ہیں کہ دشمن جہاں بھی موجود ہوگا وہاں اس کا تعاقب کیا جائے گا، تو یہ محض دھمکی نہیں بلکہ واضح اعلان ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں، اداروں اور عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ مگر الفاظ کا اثر تب تک محدود رہتا ہے جب تک انہیں عملی اقدامات، شفاف ردِ عمل اور مؤثر پالیسی میں تبدیل نہ کیا جائے۔ عوام کو یہ جاننا ضروری ہے کہ ملک کے اندر اور باہر جو ردِ عمل ہو رہا ہے اس کا قانونی اور آئینی جواز کیا ہے، اور اس پر کس طرح احتساب ہوگا۔

اقتصادی دباؤ، تجارتی راستوں کی بندش اور سرحدی پابندیاں بھی اب اس تنازعے کا ہتھیار بن چکی ہیں۔ جب روزمرہ کی زندگی متاثر ہوتی ہے، تاجروں اور مزدوروں کو نقصان پہنچتا ہے، تو فوری اور مؤثر حل کی ضرورت ہے۔ متبادل راستے وقتی حل ہیں، مگر اگر ہم سیاسی پختگی اور علاقائی تعلقات کی مضبوطی میں ناکام رہیں، تو یہ وقتی حل بھی ناکافی ہوں گے۔ اقتصادی اقدامات دانشمندی سے چلانے ہوں گے، مگر ساتھ ہی سفارتکاری اور تعلقات کی مضبوطی پر بھی توجہ دینی ہوگی۔

پناہ گزینوں، عام شہریوں اور انسانی حقوق کے معاملات پر بھی حکومت کو فوری توجہ دینی ہوگی۔ سرحدی راستوں کی بندش سے ہزاروں افراد کی زندگی متاثر ہو رہی ہے، جو روزانہ سرحد عبور کر کے کام، تعلیم یا دیگر ضروریات پوری کرتے ہیں۔ انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری لازمی ہے۔ سخت اقدامات کے ساتھ انسانی بنیادوں پر بھی اقدامات کیے جائیں تاکہ لوگ غیر محفوظ نہ ہوں۔

اب عملی سفارشات واضح ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ:

۱۔ قومی سکیورٹی حکمت عملی: فوری اور جامع حکمت عملی تیار کرے جو شفاف، آئینی اور عوامی نگرانی کے قابل ہو۔ طاقت کے استعمال میں شفافیت اور احتساب لازمی ہیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے۔

۲۔ تعلیمی اداروں، عدالتوں اور ہاسپٹلز کی حفاظت: حفاظتی منصوبے عملی طور پر نافذ ہوں اور کمیونٹی شمولیت کے ساتھ کام کریں۔

۳۔ تحریری اور قابل عمل ضمانتیں: مذاکرات اس وقت تک معنی نہیں رکھتے جب تک تحریری ضمانتیں نہ ہوں۔ صرف زبانی یقین دہانیاں کافی نہیں۔

۴۔ اقتصادی اور سفارتی حکمت عملی: متبادل راستے اور تجارتی اقدامات دانشمندی سے چلائے جائیں، مگر علاقائی تعلقات اور سیاسی پختگی کو ترجیح دی جائے۔

۵۔ دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی: عدالتی اور انٹیلی جنس اقدامات تیز اور شفاف ہوں۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے طاقت کا استعمال کیا جائے۔

آخر میں ایک حقیقت واضح ہے: وطن کی حفاظت صرف کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ یہ قوم، سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے اور عوام سب کا مشترکہ فرض ہے۔ ذاتی مفادات، انتخابی سیاست اور سیاسی نرم رویہ اب ماضی کی بات ہے۔ قومی یکجہتی، سیاسی بلوغت اور عملی اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔ اگر ہم نے طاقت، سفارتکاری، اقتصادی پالیسی اور داخلی اصلاحات متوازن طور پر نافذ نہ کیں تو قیمت بہت زیادہ ادا کرنی پڑے گی۔ یہ لمحہ فیصلہ ہے: یا ہم اپنے بچوں اور آئندہ نسل کے مستقبل کی حفاظت کریں گے، یا تاریخ میں ایک اور المیہ کا باب رقم ہوگا۔

یوسف صدیقی

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے