قصّے کہانیوں میں چھپایا گیا مجھے

قصّے کہانیوں میں چھپایا گیا مجھے
پہلو بدل بدل کے سنایا گیا مجھے

آواز دے رہا تھا مجھے کوئی خواب میں
کیا جانئے کہاں پہ بلایا گیا مجھے

ایسا نہ ہو خزانہ کوئی اور چھین لے
دیوار کی طرح سے اُٹھایا گیا مجھے

قید ِ بدن میں روح تڑپتی ہے کس لیے
یہ کون آئنہ میں دکھایا گیا مجھے

یوں سامنے مرے مرا سودا کِیا گیا
پوچھا گیا مجھے نہ بتایا گیا مجھے

ابہام ہے رفیق مرے نقش میں کوئی
پوری طرح نہ دل میں بسایا گیا مجھے

رفیق لودھی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی