قیدِ موجود و میسر میں نہیں رہنے دیا

قیدِ موجود و میسر میں نہیں رہنے دیا
اُس نے مجھ کو مرے پیکر میں نہیں رہنے دیا

دل تو خالی ہے تری یاد سے بہلے کیسے
کوئی آسیب بھی تو گھر میں نہیں رہنے دیا

ایک احساسِ تحفظ ہے سفر میں مرے ساتھ
میرے سائے نے مجھے ڈر میں نہیں رہنے دیا

مجھ سے ناراض ہے ہر موج کچھ ایسے جیسے
چاند کو میں نے سمندر میں نہیں رہنے دیا

جاگ جائے نہ کوئی خوف مرے اندر بھی
اس لیے میں نے اِسے ڈر میں نہیں رہنے دیا

شجاع شاذ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا