پھول اتنے کہ دہائی صاحب

پھول اتنے کہ دہائی صاحب
وہ چلی تو نظر آئی صاحب

سب نے اس شوخ کو مضمون کیا
ہم نے تصویر بنائی صاحب

اس نے پانی سے اٹھایا تھا خمیر
اور پھر آگ دکھائی صاحب

درج ہوتی ہے ہمیشہ کے لئے
زخم کی کار روائی صاحب

میں بھلا کب نظر آ سکتا تھا
اس نے آواز لگائی صاحب!

ڈاکٹر وحید احمد

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا