پھر یہ کیوں مستعار لی جائے

پھر یہ کیوں مستعار لی جائے
زندگی جب گزار لی جائے

محبسوں کا جہان کہتا ہے
سانس بھی سوگوار لی جائے

موسمِ گل ! سراب آنکھوں میں
اِک نمی سی اُتار لی جائے

دل بہرحال تاب رکھتا ہے
پھر شبِ انتظار لی جائے

کھل رہا ہے ثبات کا عالم
قربتِ غم گسار لی جائے

گر اَبھی ممکنات میں ہے کوئی
دوستو! شامِ یار لی جائے

دل اگرچہ اُداس ہے ناصر
خوب صورت بہار لی جائے

 

ناصر ملک

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا