پہلی محبتوں کے زمانے گزر گئے

پہلی محبتوں کے زمانے گزر گئے
ساحل پہ ریت چھوڑ کے دریا اتر گئے

تیری انا نیاز کی کرنیں بجھا گئی
جذبے جو دل میں ابھرے تھے شرمندہ کر گئے

دل کی فضائیں آ کے کبھی خود بھی دیکھ لو
تم نے جو داغ بخشے تھے کیا کیا نکھر گئے

تیرے بدن کی لو میں کرشمہ نمو کا تھا
غنچے جو تیری سیج پہ جاگے سنور گئے

صدیوں میں چند پھول کھلے اور ثمر بنے
لمحوں میں آندھیوں کے تھپیڑوں سے مر گئے

شب بھر بدن مناتے رہے جشن ماہتاب
آئی سحر تو جیسے اندھیروں سے بھر گئے

محفل میں تیری آئے تھے لے کر نظر کی پیاس
محفل سے تیری لے کے مگر چشم تر گئے

قطرے کی جرأتوں نے صدف سے لیا خراج
دریا سمندروں میں ملے اور مر گئے

خاطر غزنوی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا