پہچان سکے نہ تیرے ڈھب تک

پہچان سکے نہ تیرے ڈھب تک
ہم جانے کہاں رہے ہیں اب تک

کیا کیا تھے اصول زندگی کے
مشکل نہ پڑی تھی کوئی جب تک

وہ بات بھی رائیگاں گئی ہے
آئی جو بصد حجاب لب تک

آئے نہ خیال میں کسی کے
ہم بیٹھے رہے خموش کب تک

کیوں زیست کے منتظر ہو باقیؔ
آتا نہیں یہ پیام سب تک

باقی صدیقی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا