پل بھر میں کیا ہو کوئی آگاہ تو نہیں

پل بھر میں کیا ہو کوئی آگاہ تو نہیں
وہ مجھ سے ملنے آرہا افواہ تو نہیں

ماتھے پہ ہے شکن اور گردن میں خم نہیں
لگتا یہ شخص راندہ درگاہ تو نہیں

اک اس کے ملنے سے میں اپنوں سے دور ہوں
میں اس سزا سے ہوتا آگاہ تو نہیں

تیرے نہ ہونے سے رہتا میں قفس میں ہوں
ہر ساتھ چلنے والا ہمنوا تو نہیں

تُو نے جبیں جھکائی ہے دوست اب جہاں
حاجت قبول ہو یہ درگاہ تو نہیں

خود کو میں نے ہے روکا جانے سے اس نگر
جس پر میں چل رہا ہوں وہ راہ تو نہیں

اس شب فراق میں آنکھیں بھر جو آئیں ہیں
رکھتا میں ساتھ کوئی ہمنوا تو نہیں

محمد نعیم

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی