پاکستانی بچوں کا تحفظ: عقیدے سے بالاتر ایک ذمہ داری
بچوں کا جنسی استحصال ہمارے معاشرے کا وہ زخم ہے جس پر ہم اکثر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ظلم ہے جو نہ صرف معصوم بچوں کی مسکراہٹ چھین لیتا ہے بلکہ ان کی پوری زندگی کو اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ یہ المیہ صرف کسی ایک طبقے تک محدود نہیں، مگر کچھ جگہوں پر یہ اس قدر سنگین شکل اختیار کر چکا ہے کہ لفظ بھی شرما جاتے ہیں۔
قادیانی کمیونٹی میں یہ مسئلہ برسوں سے موجود ہے، لیکن چونکہ پاکستانی قانون میں قادیانی غیر مسلم قرار دیے جا چکے ہیں، اس لیے ریاستی سطح پر ان کے بچوں کے تحفظ پر وہ توجہ نہیں دی جاتی جو دی جانی چاہیے۔ حالانکہ یہ بچے بھی پاکستانی ہیں اور ان کی حفاظت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسی پس منظر میں ربوہ کے بدنام زمانہ ادارے نصرت جہاں اکیڈمی کا ذکر ضروری ہے۔ یہ اسکول بظاہر تعلیمی مرکز ہے مگر درحقیقت بچوں کے لیے ایک عذاب بن چکا ہے۔ یہاں نہ صرف مذہبی بنیادوں پر طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے بلکہ ان کے ذہنوں پر جبراً مسلط خطبات اور بیانیہ بھی انہیں نفسیاتی اذیت میں مبتلا کرتے ہیں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ اس ادارے کے اندر ایسے مکروہ جرائم ہوتے رہے ہیں جن کی مثال سن کر دل دہل جاتا ہے۔ حال ہی میں استاد عثمان احمد پر درجنوں طلبہ کے ساتھ جنسی استحصال کے الزامات لگے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق وہ چھٹی اور ساتویں جماعت کے بچوں کو نجی ٹیوشن اور کھیلوں کی آڑ میں اپنے قابو میں کرتا اور انہیں فارم ہاؤس کے دوروں پر بھی نشانہ بناتا۔ شکایات انتظامیہ تک پہنچنے کے باوجود کسی قسم کی کارروائی نہ کی گئی۔ بالآخر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے عثمان احمد کو فحش مواد بنانے اور پھیلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا، مگر اس کے مبینہ ساتھی آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ نصرت جہاں اکیڈمی اور قادیانی قیادت پر اس سے پہلے بھی سنگین نوعیت کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ لیکن ہر بار خاموشی چھا جاتی ہے کیونکہ یہ معاملہ ایک ایسی کمیونٹی سے جڑا ہے جو اپنے مخصوص ایجنڈے کی وجہ سے بین الاقوامی حمایت حاصل کرتی ہے۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جس پر سوال اٹھانا ناگزیر ہے۔
اگر کسی معمولی انتظامی معاملے پر قادیانیوں اور عام مسلمانوں میں تنازع ہو جائے تو بی بی سی، سی این این اور دیگر بین الاقوامی ادارے ”انسانی حقوق” کے نام پر چیخ اٹھتے ہیں۔ لاکھوں ڈالر کی فنڈنگ اور شور مچانے والی مہم چلتی ہے۔ لیکن جب معاملہ معصوم بچوں کی عصمت دری اور ان کی زندگیوں کے برباد ہونے کا ہو تو یہی ادارے مکمل خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ کیا بچوں کی عزت و حرمت صرف اس وقت یاد آتی ہے جب قادیانی کمیونٹی کو فائدہ پہنچانا مقصود ہو؟ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ احمدی قیادت اور ان کے ادارے اس گھناؤنے کھیل میں رنگے ہاتھوں پکڑے جا چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو معصوم بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ انہیں نہ شرم آتی ہے نہ خوفِ خدا۔ ان کے جرائم اتنے سنگین ہیں کہ الفاظ ان کی خباثت بیان کرنے سے قاصر ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ریاست پاکستان دوٹوک موقف اپنائے۔ ایسے درندوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے، چاہے وہ کسی بھی مذہبی یا سماجی گروہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ بچوں کی عزت اور حفاظت ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ اور جہاں تک قادیانی قیادت کا تعلق ہے، انہیں آئینہ دکھانا ضروری ہے:
یہ وہ بھیڑیے ہیں جو معصوم بچوں کے جسم اور روح کو نوچتے ہیں، مگر دنیا کے سامنے فرشتوں کا بھیس بنا کر کھڑے ہوتے ہیں۔
یوسف صدیقی