امداد کے بجائے روزگار؛ پاکستان کی ترقی کا راستہ
پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات ہمیشہ زیرِ بحث رہتے ہیں، مگر حالیہ سالوں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی ہے۔ اس پروگرام پر سالانہ 700 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں، لیکن عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری نظر نہیں آ رہی۔ دینے والا ہاتھ ہمیشہ اوپر اور لینے والا نیچے، یہ ثقافتی رجحان ہمارے معاشرے میں پھیل چکا ہے۔ لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی بجائے صرف امداد کے محتاج بن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میرا مؤقف یہ ہے کہ یہ پروگرام ختم ہونا چاہیے اور قومی وسائل کو ایسے منصوبوں میں لگایا جانا چاہیے جو عوام کو مستقل خود کفیل بنا سکیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مسلسل استعمال نے لوگوں کی خودداری اور محنت کی عادت کو کمزور کر دیا ہے۔ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ حکومت ہمیشہ سہارا فراہم کرے گی، اس لیے محنت یا جدوجہد کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ امداد کی یہ عادت نہ صرف فرد کی نفسیات پر اثر ڈالتی ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ایک ناپسندیدہ پیغام بھیجتی ہے: محنت اور محنتی کمانا ضروری ہے، صرف لینا کافی نہیں۔ کسی قوم کی ترقی صرف مالی امداد سے ممکن نہیں بلکہ محنت، ہنر اور خود انحصاری سے ہوتی ہے۔
سالانہ 700 ارب روپے صرف اس پروگرام پر خرچ ہو رہے ہیں۔ یہ رقم اگر روزگار پیدا کرنے والے منصوبوں، ہنر مندی کی تربیت یا چھوٹے کاروبار کے فروغ میں لگائی جائے تو معاشی اثرات کئی گنا بڑھ جائیں گے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی موجودگی نے بجٹ پر اضافی دباؤ ڈالا ہے، جبکہ ملک کی معیشت قرضوں اور امداد پر منحصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پروگرام کا اختتام یا اس میں بنیادی تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔
اسی پس منظر میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ موجودہ مالی حالات میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو یا تو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا یا اسے بنیادی اصلاحات کے ساتھ نئی شکل دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ محض دو سے چار ہزار روپے دینے سے غربت ختم نہیں ہوتی، بلکہ عوام کو ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام یا تو مکمل بند ہونا چاہیے یا اسے "بینظیر روزگار اسکیم” یا "ہنرمند اسکیم” میں تبدیل کر کے لوگوں کو مستقل طور پر خود کفیل بنایا جائے۔ رانا ثنا اللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ سیلاب زدگان اور دیگر قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی مدد صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ پروگرام کا اصل مقصد خود کفیل بنانا ہے، نہ کہ وقتی مالی امداد فراہم کرنا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسکیم میں شفافیت کے مسائل بھی ہیں، جعلی مستحقین کے اندراج اور سیاسی بنیادوں پر فنڈز کی تقسیم نے اربوں روپے ضائع کر دیے ہیں۔ ان کے بقول اگر یہی بجٹ روزگار پیدا کرنے والے منصوبوں میں لگایا جائے تو لاکھوں نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے، صنعت کو سہارا دیا جا سکتا ہے اور معیشت کے پہیے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے اور پارلیمنٹ میں اس پر بحث بھی ہوگی، جبکہ پیپلز پارٹی کے بعض رہنما بھی اس بات پر متفق ہیں کہ پروگرام میں اصلاحات ضروری ہیں۔
سندھ میں پیپلز پارٹی عوام کو یہ کہہ کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ "ہمیں ووٹ دو، ہم تمہیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیسے دیں گے”۔ یہ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ عوام کی فلاح کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے وسائل کا استعمال ہے۔ اس سے عوام میں احساسِ خودمختاری کی بجائے انحصاریت بڑھ رہی ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسلامی تعلیمات بھی ہمیں محنت اور خود کفالت کی طرف راغب کرتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
سب سے بہتر کمائی وہ ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے کرے”۔ (صحیح بخاری)
علماء نے اس حدیث کی تشریح میں کہا ہے کہ انسان کو اپنی محنت سے رزق کمانا چاہیے تاکہ وہ دوسروں پر انحصار نہ کرے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات عارضی مدد فراہم کرتے ہیں، لیکن مستقل حل محنت، ہنر مندی اور خود کفالت میں ہے۔
غربت کے مستقل حل کے لیے نقد امداد کافی نہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی یہی مشاہدہ کیا گیا ہے۔ بھارت میں "منریگا” پروگرام لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے نہ کہ صرف نقد رقم۔ بنگلہ دیش اور چین نے بھی چھوٹے کاروبار اور ہنرمندی پر زور دیا ہے۔ پاکستان کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا چاہیے: نقد امداد کے بجائے محنت، ہنر اور کاروباری مواقع پر سرمایہ کاری۔
قوم کی ترقی صرف وسائل بانٹنے سے نہیں بلکہ لوگوں کو عزت، محنت اور خود انحصاری کے ساتھ آگے بڑھانے سے ممکن ہے۔ جب لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے اور محنت سے کمائیں گے، تب معاشرہ مضبوط اور مستحکم ہوگا۔ امداد لینے والا ہمیشہ محتاج رہتا ہے، جبکہ محنت کرنے والے اور ہنرمند لوگ اپنے خاندان کے ساتھ ملک کے لیے بھی سہارا بنتے ہیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ اگر "ہنرمند پاکستان” یا "روزگار اسکیم” میں لگایا جائے تو اثرات بہت زیادہ مثبت ہوں گے۔ خواتین، نوجوان اور خاندان کے سربراہ چھوٹے کاروبار یا ہنر مند پیشوں میں تربیت حاصل کر کے معاشرے میں خود کفیل بن سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے نہ صرف غربت کم ہوگی بلکہ ملک کی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔
مزید برآں، اس پروگرام کی موجودگی نے محض وقتی سہارا فراہم کیا ہے، مستقل حل نہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ وسائل ایسے منصوبوں میں لگیں جو قوم کو خود کفیل، محنتی اور عزت مند بنائیں۔ یہی پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے، اور یہی وجہ ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا موجودہ نظام ختم ہونا چاہیے یا بنیادی اصلاحات کے ساتھ مکمل طور پر نیا ڈھانچہ متعارف کروایا جائے۔
یوسف صدیقی