پچپن کے ساتھ ساتھ, اٹھارہ کا اب ہوں میں

پچپن کے ساتھ ساتھ, اٹھارہ کا اب ہوں میں
بیٹے میں اپنی عمرِ گزشتہ کی چھب ہوں میں

نوٹوں کے درمیاں, کوئی عزت نہ تھی مری
سکہ ہوں اور فقیر کے کاسے میں اب ہوں میں

دکھ ہوں, کسی کے رنگِ خوشی میں رنگا ہوا
جیسا دکھائی دیتا ہوں, ویسا بھی کب ہوں میں

مجھ ہاو ہو سے گھر کی فضا خوشگوار ہے
بچوں کے کھیل کود کا شور و شغب ہوں میں

ڈستے تو ہیں مجھے بھی مری آستیں کے سانپ
ہنستا ہوں چیخنے کی بجائے, عجب ہوں میں

مینار ہوں سو خوبیِ منظر کے ساتھ ساتھ
بھٹکے کبوتروں کی خوشی کا سبب ہوں میں

بے بس کیے ہوئے ہے مجھے روشنی کبیر
قسمت کو کوستی ہوئی مایوس شب ہوں میں

کبیر اطہر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا