’’نِت نئے نقش بناتے ہو مِٹا دیتے ہو‘‘

’’نِت نئے نقش بناتے ہو مِٹا دیتے ہو‘‘
وہ مصور ہو کہ تصویر جلا دیتے ہو
اب تو ہر سانس ہی یادوں میں گزر جاتی ہے
اس طرح دِل کو دھڑکنے کی سزا دیتے ہو
خود ہی دیتے ہو مرے دل کو تسلی جاناں !
خود ہی تم درد کے شعلوں کو ہوا دیتے ہو
جب بھی آتے ہو نظر آنکھ چمک اٹھتی ہے
دِل کی دنیا میں کئی رنگ جگا دیتے ہو
تم خدا ہو تو کرو ظرف بھی اپنا کامل
جو بھی کرتے ہو کرم ، اُس کو جتا دیتے ہو
چھین لیتے ہو سرِ شام مری آنکھ کا نور
صبح ہوتے ہی کئی دیپ جلا دیتے ہو
ہم تو بھیگی ہوئی پلکیں بھی چھپا رکھتے ہیں
اور تم زخم سرِ بزم سجا دیتے ہو

شازیہ اکبر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے