نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی

نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہے
بچاتے ہم اپنی جان جس میں وہ کشتی بھی اب کہیں نہیں ہے

بہت دنوں بعد پائی فرصت تو میں نے خود کو پلٹ کے دیکھا
مگر میں پہچانتا تھا جس کو وہ آدمی اب کہیں نہیں ہے

گزر گیا وقت دل پہ لکھ کر نجانے کیسی عجیب باتیں
ورق پلٹتا ہوں میں جو دل کے تو سادگی اب کہیں نہیں ہے

تم اپنے قصبوں میں جاکے دیکھو وہاں بھی اب شہر ہی بسے ہیں
کہ ڈھونڈتے ہو جو زندگی تم وہ زندگی اب کہیں نہیں ہے​

جاوید اختر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان