ناز اٹھاتا پھرے ہے کس کس کا

ناز اٹھاتا پھرے ہے کس کس کا
آپ سے کام آ پڑا جس کا

ہم بھی شاکی ہیں، آپ بھی شاکی
اب کرے کون فیصلہ کس کا

میرے جاتے ہی ہو گیا باقیؔ
اور ہی اور رنگ مجلس کا

باقی صدیقی

Related posts

شہباز خواجہ شاعری

ماتم

ہجر