نئے طور سیکھے نکالے ڈھب اور

نئے طور سیکھے نکالے ڈھب اور
مگر اور تھے تب ہوئے ہو اب اور

ادا کچھ ہے انداز کچھ ناز کچھ
تہ دل ہے کچھ اور زیر لب اور

لب سرخ کو ٹک دکھاتے نہیں
طرح پان کھانے کی تھی کچھ جب اور

نہ گرمی نہ جوشش نہ اب وہ تپاک
تکلف نہیں اس میں تھے تم تب اور

زمانہ مرا کیونکے یکساں رہے
اٹھاویں گے تیرے ستم یہ کب اور

جدا اتفاقاً رہا ایک میر
وگرنہ ملے یوں تو اس سے سب اور

میر تقی میر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا