نہیں ملیں گے دام ٹھیک سے کرو

نہیں ملیں گے دام ٹھیک سے کرو
کرو اگر تو کام ٹھیک سے کرو

وہ خوش نہیں ہوا تمھارے حال سے
سو دیوتا کو رام ٹھیک سے کرو

سنا ہے نیک نام ہو ابھی تلک
تو خود کو میرے نام ٹھیک سے کرو

اٹھے نہ کوئی سر ہمارے سامنے
غلام کو غلام ٹھیک سے کرو

نہ آنکھ لال ہو سکی نہ غم غلط
میاں کچھ انتظام ٹھیک سے کرو

فرح گوندل

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان