نہیں میری واپسی کا کوئی اعتبار کہنا

نہیں میری واپسی کا کوئی اعتبار کہنا
وہ کرے نہ زندگی بھر مرا انتظار کہنا

وہ محبتوں کے موسم تجھے یاد بھی ہیں ہمدم
مرا ایک بار سننا تیرا بار بار کہنا

وہ شریف آدمی ہے مرا تذکرہ کرے نا
اسے جانتی ہے دنیا رہے ہوشیار کہنا

جو ہنسا ہے اتفاقا تمہیں دیکھ کر مرا من
نہ اسے ستم سمجھنا نہ اسے قرار کہنا

وہ ہر ایک بیتا لمحہ مجھے یاد آ رہا ہے
ترا مجھ سے بات کرنا مرا تجھ کو یار کہنا

ذرا احتیاط رکھے مرے سامنے نہ آئے
مرا دیکھنا نہ کر دے اسے شرمسار کہنا

ہمانشی بابرا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی