نازو نعم ملے ہیں تو بگڑے ہوئے ہو، ہاں

نازو نعم ملے ہیں تو بگڑے ہوئے ہو، ہاں
شوخی پہ خوب آجکل اترے ہوئے ہو ،ہاں

ذوقِ جنون ! دل ہی میں میرے محیط تھے
صحرا میں آ گئے ہو تو پهیلے ہوئے ہو ،ہاں

سو ، آئینے کو راس ہے عکسِ جمال-یار
دیکها ہے اس نے آج تو نکهرے ہوئے ہو ،ہاں

آنکھوں سے تو عیاں ہے سبھی رتجگوں کا حال
اب بهی ہمارے پیار سے مکرے ہوئے ہو، ہاں

مجھ کو فرح سب آتے ہیں کس بل نکا لنے
تنہا تمہیں کیا ہے تو سیدهے ہوئے ہو ،ہاں

سیدہ فرح شاہ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی