ناز کرتا رہے میرے ساتھ

ناز کرتا رہے میرے ساتھ
اور دل کیا کرے میرے ساتھ

پتھروں کی طرح لوگ تھے
بولنے لگ پڑے میرے ساتھ

جنتی آنکھیں تھیں حیران تھیں
سب نے دیکھا اسے میرے ساتھ

آج بھی ویسی تنہائی ہے
تیرے ہوتے ہوئے میرے ساتھ

فیصل ہاشمی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا