نالہِ ہجر نہیں وصل بھی درکار نہیں

نالہِ ہجر نہیں وصل بھی درکار نہیں
کیوں تری جان کسی درد سے دو چار نہیں

محرمِ کشف و کرامات و عنایات نہیں
دستِ وحشت سے تری آنکھ جو خوں بار نہیں

مَیں کِسے درد کی روداد سناؤں کہ یہاں
کوئی سینہ بھی غمِ یار سے سرشار نہیں

تُو اگر نورِ بصیرت سے ہے محروم تو پھر
میرے سینے کی تمازت سے خبردار نہیں

غیب سے آتے ہیں ہر وقت یہ پیغام مجھے
کیا زمانے میں کوئی میرا طلب گار نہیں

جسم واقف ہے کہاں روح کی طغیانی سے
خشت و خاشاک کے حصے میں یہ آزار نہیں

قلبِ غِرْبال سے کیوں کر نہ رِسے خونِ جگر
ضربِ تقریر ہے یہ جنبشِ تلوار نہیں

اہلِ دل خاطرِ تسلیم بجا کیوں لائے
عالمِ خواب ہے یہ عالمِ بیدار نہیں

تہمتِ غفلتِ پَندارِ مسیحا کیوں کر
خاک وارفتہ ہے جو عشق میں ہشیار نہیں

خوں رُلاتا ہے ترا نالہ و شیوَن جامؔی
کون کہتا ہے تری آہ اَثَر دار نہیں

شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا