نہ تم زباں سے جواب دینا

نہ تم زباں سے جواب دینا

جو دے سکو تو گلاب دینا

نہ کہہ سکو تو، تو ایسا کرنا

کہ پھول رکھ کر کتاب دینا

نہ میں محبت میں تم سے لوں گی

نہ تم ہی مجھ کو حساب دینا

مری طرف سے بھی لے کے جانا

یہ پھول ان کی جناب دینا

نیل احمد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے