نہ تجھ سے ہے گلہ نہ آسمان سے ہوگا

نہ تجھ سے ہے گلہ نہ آسمان سے ہوگا
تری جُدائی کا جھگڑا جہان سے ہوگا

تمھارے میرے تعلق کا لوگ پوچھتے ہیں
کہ جیسے فیصلہ میرے بیان سے ہوگا

اگر یونہی مجھے رکھا گیا اکیلے
برآمد اور کوئی اس مکان سے ہوگا

جُدائی طے تھی مگر یہ کبھی نہ سوچا تھا
کہ تو جُدا بھی جُداگانہ شان سے ہوگا

گزر رہے ہیں مرے دن اسی تفاخر میں
کہ اگلا قیس مرے خاندان سے ہوگا

عباس تابش

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا