نہ میں یوسف نہ ترے

نہ میں یوسف نہ ترے طور زلیخا جیسے
جب طبیعت ہی جدا تھی بھلا ملتے کیسے

حکمتِ عملی بنائی گئی جو میرے خلاف
یار بھی مارنے کو پھر اٹھے کیسے کیسے

میں نے غم سے جو کبھی بھاگنے کی کوشش کی
غم بھی پھر مسکرا کےبولا کہ ایسے کیسے

جب بھی بازیچۂ اطفال کی یادیں آئیں
تو لگا گلستاں کھل اٹھا ہو دل میں جیسے

میں نے معیارِ محبت سدا اونچا رکھا
مرے دل میں نہیں آتا کوئی ایسے ویسے

زخم بڑھتا گیا تھا ہجر کا رفتہ رفتہ
لذتِ ہجر بھی بڑھتی گئی جیسے جیسے

محمد شاہ زیب احمد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی