مشکل اک اک گام ہوا ہے

مشکل اک اک گام ہوا ہے
دل نذرِ آلام ہوا ہے

پاگل پیار میں ہوجاؤں گی
مجھ کو یہ الہام ہوا ہے

میرے نام کوجپتے جپتے
وہ بھی تو بدنام ہوا ہے

دل کی مان کے باتیں ساری
کیا سے کیا انجام ہوا ہے

آنکھ میں بھر کے چہرہ اس کا
درد کو خوب آرام ہوا ہے

ثوبیہ راجپوت

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان