مصوّر

مصوّر

اے تصویر بنانے والے!
تم ساحر ہو!
اور تمہارا
سارا جادو
سارے منتر،ساری چالیں
اِن پوروں میں چھپی ہوئی ہیں
لیکن آنکھیں جھکی ہوئی ہیں

شازیہ اکبر

Related posts

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

ماورا ہے سوچوں سے

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں