مختار مسعود کی تحریریں: ادب، فکر اور حقیقت کا حسین امتزاج
مختار مسعود اردو ادب کے ان ممتاز نثر نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جن کی تحریریں زبان کی سادگی، فکری گہرائی اور ادبی لطافت کا دلکش امتزاج پیش کرتی ہیں۔ ان کی تحریریں محض معلومات کا بیان نہیں بلکہ اردو نثر کی بہترین مثال ہیں، جہاں ہر لفظ اپنے پورے معنی اور تاثیر کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں سماجی و تاریخی حقائق کو نہایت فصاحت کے ساتھ اجاگر کیا اور نثر کے معیار کو نئی بلندی بخشی۔
ان کی سب سے معروف تصنیف "آوازِ دوست” اردو ادب میں نثر نگاری کا سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔ اس میں شامل مضامین "مینارِ پاکستان” اور "قحطِ الرجال” اپنی مثال آپ ہیں۔ مینارِ پاکستان میں
اسی کتاب کا ایک اقتباس مختار مسعود کے اسلوب کی سادگی، گہرائی اور حقیقت پسندی کو نمایاں کرتا ہے
"یو تھانٹ، اقوام متحدہ کے تیسرے سیکرٹری جنرل، لاہور آئے۔ ان کا استقبال کرنے والوں میں مَیں بھی شامل تھا۔ انہوں نے وی آئی پی روم میں کچھ دیر توقف کیا۔ اخباری نمائندے بھی یہاں تھے۔ وہ سوال پوچھتے رہے۔ یو تھانٹ ٹالتے رہے۔ میں دیکھتا اور سنتا رہا۔ یہ انٹرویو مایوس کن تھا۔ بے معنی جملے جو بے ایمانی سے قریب اور حقیقت سے دور ہوتے ہیں۔ بے وزن باتیں جنہیں سفارتی آداب کہتے ہیں۔ بے وجہ چشم پوشی اور جان بوجھ کر پہلو تہی۔ ناحق اس عہدے دار کو دنیا کا غیر رسمی وزیراعظم کہتے ہیں۔ یہ شخص تو دنیا بھر سے خائف رہتا ہے اور ہماری طرح سیدھی بات بھی نہیں کر سکتا ہے۔
یہ اقتباس واضح کرتا ہے کہ مختار مسعود کس طرح عام واقعات کو بھی نثر کے شاہکار میں بدل دیتے ہیں۔ ان کے جملوں میں روانی، طنز کی باریکی اور حقیقت نگاری کی شدت اردو ادب کا حسین پہلو اجاگر کرتی ہے۔
ان کی دوسری اہم تصنیف "سفرِ نصیب” ہے، جو سفرنامے کے ساتھ ساتھ ادبی تحریر کا بھی شاندار نمونہ ہے۔ اس میں داخلی اور خارجی سفر کے مشاہدات کو اتنے دلکش اور بامعنی انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ ہر صفحہ قاری پر دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ یہ محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ اردو نثر کا نفیس شاہکار ہے۔
تیسری نمایاں کتاب "لوحِ ایام” ہے جس میں مختلف تاریخی اور سماجی موضوعات پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں زبان کی روانی، فکری وسعت اور ادبی وقار اپنی پوری شان کے ساتھ جھلکتے ہیں۔ ان کے ہر مضمون میں یہ خوبی موجود ہے کہ وہ قاری کو نہ صرف معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ اس کے فکری و ادبی ذوق کو بھی بلند کرتا ہے۔
مختار مسعود کی نثر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ پیچیدہ موضوعات کو نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔ تشبیہات، استعارات، طنز اور شگفتگی کا امتزاج ان کی تحریروں کو منفرد بنا دیتا ہے۔ ان کا ہر جملہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ زبان و بیان کو بلند معیار کے ساتھ کس طرح برتا جا سکتا ہے۔
مختار مسعود کی کتابیں — آوازِ دوست، سفرِ نصیب اور لوحِ ایام — اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ یہ کتابیں نہ صرف نثر کی فصاحت اور سادگی کو نمایاں کرتی ہیں بلکہ قاری کو فکری بصیرت، تاریخی شعور اور سماجی آگہی بھی فراہم کرتی ہیں۔
ان کی خدمات سے یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ اردو نثر میں زبان کی خوبصورتی اور فکری گہرائی کو بیک وقت یکجا کرنا ممکن ہے۔ ان کی تحریریں آج بھی طلبہ اور عام قارئین کے لیے رہنمائی اور تحریک کا ذریعہ ہیں۔ ان کا مطالعہ قاری کے ادبی ذوق کو نکھارتا ہے اور اس کے فکری افق کو وسیع کرتا ہے۔
یوسف صدیقی