مجھے بتایا گیا تھا یہاں محبت ہے

مجھے بتایا گیا تھا یہاں محبت ہے
میں آ گیا ہوں دکھاؤ کہاں محبت ہے

یہاں کے لوگ بہت دشمنی نباہتے ہیں
اسی سے ہوتا ہے ثابت یہاں محبت ہے

کسی کے ناف پیالے سے منہ ہٹا لینا
سوال ہی نہیں اٹھتا میاں محبت ہے

سو روح و جسم کا رشتہ بحال ہے تب تک
ہمارے بیچ یہ جب تک رواں محبت ہے

یہ راز مجھ پہ کھلا ہے تمہارے چھونے سے
ہوس چراغ ہے لیکن دھواں محبت ہے

خالد ندیم شانی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا