مدتوں کے بعد بھی درکار ہے

مدتوں کے بعد بھی درکار ہے
آج بھی دل کو وہی درکار ہے

خواب جو اک پل میں ازبر ہو گیا
بھول جانے کو صدی درکار ہے

صبح جیسے خوش بدن کے واسطے
اک قبائے قرمزی درکار ہے

ساری دنیا پا کے بھی ایسا لگا
چیز جو درکار تھی درکار ہے

پیار کا اک گیت گانا ہے مجھے
دھڑکنوں کی بانسری درکار ہے

دل نہیں لگتا اب اس کا جھیل میں
چاند کو اک جل پری درکار ہے

نمرہ علی

Related posts

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

ماورا ہے سوچوں سے

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں