مدت ہوئی کہ بیچ میں پیغام بھی نہیں

مدت ہوئی کہ بیچ میں پیغام بھی نہیں
نامے کا اس کی مہر سے اب نام بھی نہیں

ایام ہجر کریے بسر کس امید پر
ملنا انھوں کا صبح نہیں شام بھی نہیں

پروا اسے ہو کاہے کو ناکام گر مروں
اس کام جاں کو مجھ سے تو کچھ کام بھی نہیں

روویں اس اضطراب دلی کو کہاں تلک
دن رات ہم کو ایک دم آرام بھی نہیں

کیا جانوں دل کو کھینچے ہیں کیوں شعر میر کے
کچھ طرز ایسی بھی نہیں ایہام بھی نہیں

میر تقی میر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان