موم کی طرح پگھلتے مرے ساتھ

موم کی طرح پگھلتے مرے ساتھ
اور کُچھ دیر تو جلتے مرے ساتھ

لڑکھڑاتے ہوئے جھونکے نے کہا
تُم بھی موسم سا بدلتے مرے ساتھ

عشق کی راہ پہ چلنا مشکل
عشق کی راہ پہ چلتے مرے ساتھ

یہ تمنا ہے سسکتے دیئے کی
چاند سورج بھی تو ڈھلتے مرے ساتھ

چومتا ہاتھ اگر وہ میرے
شاذؔ پھر ساز مچلتے مرے ساتھ

شجاع شاذ

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی