موج ساحل سے جب جدا ہو گی

موج ساحل سے جب جدا ہو گی
ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی

مجھ سے پوچھو نہ داستاں میری
میری ہر بات ناروا ہو گی

مدعا خامشی تک آ پہنچا
اب نگاہوں سے بات کیا ہو گی

دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ
بجھ کے بھی روشنی سوا ہو گی

باقی صدیقی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل