محبتوں میں مجھے مشت بھر کمائی تو دے

محبتوں میں مجھے مشت بھر کمائی تو دے
بنے کٹھور نہ وہ، دل تلک رسائی تو دے

میں تجھ کو روح کی گہرائی میں اتاروں گی
یہ میرا کرب تری آنکھ میں دکھائی تو دے

طلسمی جال میں یادوں کی تجھ کو قید کروں
تو میرے ذہن کے دریا کو رو نمائی تو دے

تو شب ڈھلے مرے دل پر اترتی آیت ہے
ترے نزول کی آہٹ مجھے سنائی تو دے

میں اک چنار کے سائے میں ایستادہ کلی
صبا کسی کے لیے مجھ کو خوش نمائی تو دے

دعا ہے اس کی اذیت رسانی مجھ کو قبول
وہ اپنے لمس کی ٹھنڈک سے آشنائی تو دے

دعا علی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی