متاعِ ہجر کو ضائع نہیں ، مفید کیا
ترے خیال سے رزقِ غزل کشید کیا
انا بھی چھوڑ دی ہم نے وہ لوٹ آیا تو
اسے گلے سے لگایا ، گِلہ شدید کیا
نچانے اور منانے کے کھیل کی خاطر
وہ خود تو یار بنا اور مجھے فرید کیا
تمھاری آنکھ سے مطلع نکال کر لائے
سو ہم نے رنگِ تغزل ذرا جدید کیا
ہمارے پاس فقط ایک ہی کرامت ہے
جسے کیا ہے محبت سے ہی مرید کیا
بس ایک دشت پہ وحشت نے کب قناعت کی
جہانِ دربدری سے بھی مستفید کیا
کمال عدل کیا آپ نے بلا تفریق
جو خواب سامنے آیا وہی شہید کیا
اس ایک تاجرِ شاطر نے صرف انکھوں سے
ہم ایسے گوہرِ نایاب کو خرید کیا
اظہر عباس خان