ملے تھے دشت کئی قہقہہ لگاتے ہوئے

ملے تھے دشت کئی قہقہہ لگاتے ہوئے
ترے وصال کا اک زائچہ بناتے ہوئے

میاں یہ عشق ہے اور ہجر پالتا ہے اسے
تو رو پڑے گا مرا صبر آزماتے ہوئے

تمام رات ترا حسن ان سے ذکر کیا
یہ چاند تارے گئے صبح تلملاتے ہوئے

کوئی تو بات اضافی بھی یاد آ رہی ہے
اٹک رہے ہو مرا واقعہ سناتے ہوئے

پھر ایک روز گلے آ لگا یہ کہتے ہوئے
میں تھک گیا ہوں تجھے روز یاد آتے ہوئے

تو ہاتھ کاتب تقدیر کے نہ کانپے کیا
ہمارے بیچ میں دیوار کو اٹھاتے ہوئے

وہ میری آنکھ میں بس عکس دیکھتا ہے ترا
ستارہ ساز ، ستارہ نیا بناتے ہوئے

مجھے تو یار ہٹائیں کہ ریل گاڑی ہے
میں دیکھتا ہوں اسے سامنے سے آتے ہوئے

بچھڑتے وقت دکھایا یہ میرا مسلک ہے
کہ مڑ کے دیکھنا واجب نہیں ہے جاتے ہوئے

یہ صرف ذوق سخن لگ نہیں رہا اظہر
وہ رو پڑا تھا مرا شعر گنگناتے ہوئے

اظہر عباس خان

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی