ملا ہمیشہ جو بادِ نسیم بن کے مجھے

ملا ہمیشہ جو بادِ نسیم بن کے مجھے
پھپھولے دے کے گیا ہے حمیم بن کے مجھے

مٹھاس گھول کے رکھتا ہوں خود میں جس کے لیے
ہزار رنج، کہ ملتا ہے نیم بن کے مجھے

وہ ایک شخص کہ جس سے جڑا تھا میرا نصیب
رِجا بنا ہے، دغا دی ہے بیم بن کے مجھے

اسے نہ در کی، دریچوں کی کوئی پابندی
حصار میں وہ کرے گر شمیم بن کے مجھے

وہ اک نحیف سے کمزور جسم والا شخص
دکھا دیا ہے دنوں میں لحیم بن کے مجھے

جسے شعور دیا، جس کو آگہی بخشی
اسی نے دھوکے میں رکھا فہیم بن کے مجھے

روش رکھی ہے جہاں پر رشیدؔ سیدھی سی
دکھائے آنکھ وہی کاف جیم بن کے مجھے

رشِید حسرتؔ

مورخہ ۱۷ مارچ ۲۰۲۵، صبح ۰۸ بج کر ۳۵ منٹ پر غزل مکمل کی گئی۔

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا