مل رہے ہو صف – دشمن میں

مل رہے ہو صف – دشمن میں کھڑے ہو کر بھی
کتنے اچھے ہو میاں اتنے برے ہو کر بھی

تم ملنگوں سے دعا لیتے ہو لیکن مجھ کو
خالی لگتے ہیں یہ صندوق ،،،، بھرے ہو کر بھی

کیسی مہتاب لباسی ہے کہ جس کے آگے
میرے کپڑے بھی پرانے ہیں نئے ہو کر بھی

پھر بھی خوش ہوکے یہ کہتا ہوں بہت اچھا ہوں
جسم پر نیلے نشانات پڑے ہو کر بھی

ایسے لوگوں سے اندھیرے میں ملاقات نہ ہو
جو چراغاں نہیں کر سکتے دئے ہو کر بھی

تم ستاروں سے بچھڑ کر تو نہیں آئے ہو ؟
آسماں لگتے ہو قدموں میں پڑے ہو کر بھی

عاطف کمال رانا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی