مل گئی آپ کو فرصت کیسے

مل گئی آپ کو فرصت کیسے
یاد آئی میری صورت کیسے

پوچھ ان سے جو بچھڑ جاتے ہیں
ٹوٹ پڑتی ہے قیامت کیسے

تیری خاطر تو یہ آنکھیں پائیں
میں بھلا دوں تیری صورت کیسے

اب تو سب کچھ ہی میسر ہے اسے
اب اسے میری ضرورت کیسے

تجھ سے اب کوئی تعلق ہی نہیں
تجھ سے اب کوئی شکایت کیسے

کاش ہم کو بھی بتا دے کوئی
لوگ کرتے ہیں محبت کیسے

تیرے دل میں میری یادیں تڑپیں
اتنی اچھی میری قسمت کیسے

وہ تو خود اپنی تمنا ہے عدیم
اس کے دل میں کوئی چاہت کیسے

عدیم ہاشمی 

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی