مری زندگی میں نہیں مگر

مری زندگی میں نہیں مگر
مرے دل کے تم ہو مکیں مگر

وہی میں ہوں اور وہی راستے
تُو چلا گیا ہے کہیں مگر

مجھے ضبطِ غم پہ کمال ہے
نہیں آنسوؤں پہ یقیں مگر

میں فلک کو چھو نہ سکوں تو کیا
مرے زیرِ پا ہے زمیں مگر

تجھے ہم نے دل میں پناہ دی
تُجھے دل لگا تھا کمیں مگر

کسی شے سے ہم نہیں ہارتے
تھیں نگاہیں تیری حسیں مگر

بھلے تھم چکی ہے ہواۓ عشق
رہا ہجر پہلو نشیں مگر

تجھے لوٹنا ہے تو لوٹ آ
تجھے لوٹنا ہے؟ نہیں مگر

ایمان ندیم ملک

Related posts

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

ماورا ہے سوچوں سے

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں